Kashf Ul — Asrar Imam Khomeini In Urdu Better

"کشف الاسرار" اپنے مواد اور رائے کی وجہ سے متنازعہ رہی ہے:

خلاصہ یہ کہ "کشف الاسرار" صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک انقلاب کا نقشہ اور ایک دینی عالم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امام خمینیؒ کس طرح ایک معمولی سی بحث سے شروعات کر کے ایک عظیم تحریک کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ کتاب آج بھی جدید دور کے چیلنجز کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ ہمیں بتاتی ہے کہ حق کی آواز بلند کرنے کے لیے کبھی بھی مصلحت پسندی اور خاموشی کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ Kashf Ul Asrar Imam Khomeini In Urdu

امام خمینی کی کتاب "کشف الاسرار" بیسویں صدی کی ایک اہم اسلامی تصنیف ہے جس نے اسلامی بیداری اور انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اردو میں اس کا ترجمہ ہونا برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی نعمت ہے، جس سے وہ امام خمینی کے افکار سے براہ راست استفادہ کر سکتے ہیں۔ Kashf Ul Asrar Imam Khomeini In Urdu

For students of political science and Islamic history in South Asian universities, the Urdu edition provides primary source material on the evolution of modern political Islam. Where to Find and Read the Book in Urdu Major Translators and Publishers Kashf Ul Asrar Imam Khomeini In Urdu

Kashf al-Asrar (Unveiling of Secrets) is a landmark work written by in 1943. It was primarily a refutation of the pamphlet Asrar-i Hazarsala (Secrets of a Thousand Years) by Ali Akbar Hakimzadeh, which criticized traditional Shia practices and clerical authority.

"کشف الاسرار" کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا لازمی ہے۔ یہ کتاب 1362 ہجری (1943ء) میں امام خمینیؒ کی عمر کے چالیسویں سال میں قلمبند ہوئی۔ اس وقت ایران پر رضا شاہ پہلوی کے قبضے اور استبداد کے سایے طویل عرصے تک جمے رہے تھے۔ رضا شاہ کی زوال کے بعد اس کے بیٹے محمد رضا پہلوی کا دور شروع ہوا تھا اور مولوی محمد تقی گیلانی کی کتاب "اسرار ہزار سالہ" شائع ہوئی تھی، جس میں دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور علما کرام کے خلاف زہر آلود حملے کیے گئے تھے۔

امام خمینی نے، جو اس وقت قم کے حوزہ علمیہ کے ایک ممتاز عالم تھے، اس چیلنج کو قبول کیا اور "کشف الاسرار" کے نام سے ایک تفصیلی جوابی کتاب تحریر کی۔ یہ نہ صرف ایک علمی کتاب تھی بلکہ پہلی مرتبہ امام خمینی نے اپنے سیاسی خیالات کا اظہار بھی کیا۔